Sunday, May 20, 2012

Sindh Sagar Doab Introduction

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُورٌ عَلَى نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (24:35)

خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے (24:35)

Allah is the Light of the heavens and the earth. The Parable of His Light is as if there were a Niche and within it a Lamp: the Lamp enclosed in Glass: the glass as it were a brilliant star: Lit from a blessed Tree, an Olive, neither of the east nor of the west, whose oil is well-nigh luminous, though fire scarce touched it: Light upon Light! Allah doth guide whom He will to His Light: Allah doth set forth Parables for men: and Allah doth know all things.‎ (24:35)

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (9:128)

(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں (9:128)

Now hath come unto you a Messenger from amongst yourselves: it grieves him that ye should perish: ardently anxious is he over you: to the Believers is he most kind and merciful.‎9:128)

 

فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (9:129)

پھر اگر یہ لوگ پھر جائیں (اور نہ مانیں) تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے (9:129)

But if they turn away, Say: "Allah sufficeth me: there is no god but He: On Him is my trust,- He the Lord of the Throne (of Glory) Supreme!"‎(9:129)

 

Category: Islam

Doab is a Persian word, used for the area located between two rivers. The Sindh Sagar Doab is one of the five major doabs of the Punjab. Punjab also got its name from the waters of five rivers flowing in its plains. The Sindh Sagar Doab includes the area between the Indus river and the Jhelum river, as such it forms the north western portion of the Punjab plains. Major areas in this doab include the Kala Chitta Range, Margalla and Murti Hills, Potohar, Salt Range and the Thal. Some of the major cities of this doab are Islamabad, Rawalpindi, Taxila, Attock, Chakwal, Jhelum, Pind Dadan Khan, Talagang, Mianwali, Bhakkar, Leiah (Layya), Kot Addu, Muzaffargarh, Khushab and Quaidabad. Main eastern tributaries of the Indus are River Haro which joins the Indus near Bagh Nilah below Attock. The other one is river Soan, which joins the river Indus at Peer Piaee below Makhad.

The area included in Sindh Sagar Doab is extremely rich in history, culture, archaeology and various shades of society. Geographically also it includes different types of landscape, flora and fauna. This website is basically meant to cover all these shades in due course of time.

 

Punjabdoabs

 

 

Read more: Sindh Sagar Doab Introduction

Category: Places

makhdoom-e-jahania jahan gasht

برصغیر کے معروف سلسلہ ہائے تصوف میں سہروردیہ آمد کے اعتبار سے چشتیہ کے بعد دوسرا اہم سلسلہ ہے۔ اس کا آغاز ملتان سے حضرت بہاؤالدین زکریاؒ (م 1262 / 661) کی ذات گرامی سے ہوا جن کی ٹھوس علمی و مذہبی خدمات کے نتیجے میں موجودہ پاکستان میں شامل بڑے علاقے بالخصوص جنوبی پنجاب اور سندھ میں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ آپ کے فرزند ، صدرالدین عارفؒ اور پوتے حضرت شاہ رکن عالم ؒ بھی اپنی کاوشوں کے با وصف صوفیائے ہندوستان کے ممتاز ترین اولیاء کی صف میں شمار ہوتے ہیں۔ ملتان کے ساتھ ساتھ اوچ بھی سہروردی مشائخ کا ایک بڑا مرکز رہا۔

 حضرت بہاؤالدین زکریاؒ کے مرید، خلیفہ اور ہندوستان میں سادات بخاری کے مورث اعلیٰ حضرت جلال الدین سر خپوش بخاریؒ نے بھی اپنے مرشد ذی وقار کی طرح بڑے پیمانے پر لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مائل کیا۔ آپ کے بعد آپ کے فرزند احمد کبیرؒ اور پوتے مخدوم جہانیاں جہاں گشت ؒ اور صدرالدین راجن قتالؒ نے ہندوستان کے قرن ہائے وسطیٰ میں سیاسی مراکز سے دور تبلیغ و تعلیم اور تعمیرِ سیرت کا جو فریضہ ادا کیا اس نے عوام و خواص کی باطنی اصلاح اور قلبی طہارت کے حوالے سے تاریخ تصوف میں نہ مٹنے والے نقوش ثبت کر دیے۔
عہد سلاطین دہلی کے اوچ میں اگرچہ بہت سی شخصیات نے سیاسی ، علمی ، ثقافتی اور مذہبی پس منظر میں معاشرے پر اپنے اثرات مرتب کئے لیکن مخدوم جہانیاں جہاں گشت ؒ کی ذات گرامی اپنی ہمہ جہتی کی وجہ سے اُس دور کی نمایاں ترین شخصیت قرار دی جا سکتی ہے۔ اُن کی ولادت باسعادت 14 شعبان المعظم 707 ھ بمطابق 19 جنوری 1308 ء بروز جمعرات اوچ میں ہوئی۔ نام نامی ان کے جد امجد کے اسم گرامی پر جلال الدین رکھا گیا لیکن عام طور پر ’’مخدوم جہانیاں جہاں گشت ‘‘ کے نام سے معروف ہیں۔

 

Read more: مخدوم جہانیاں جہاں گشت

Category: Personalities

Login Form